’’مسلم راشٹریہ منچ‘‘ کے بعد ملحد ’’طارق فتح‘‘ مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کے لیے ملک دشمن طاقتوں کا نیا ہتھیار

۹؍ فروری۲۰۱۷ء ؁، مطابق:۱۱؍ جمادی الاولی ۱۴۳۸ھ ؁، شاہین باغ ، نئی دہلی۔
’’مسلم راشٹریہ منچ‘‘ کے بعد ملحد ’’طارق فتح‘‘ مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کے لیے ملک دشمن طاقتوں کا نیا ہتھیار
مذہبی تفریق پیدا کرنے کی کوشش غیر دستوری عمل، طارق فتح کا شو فوراً بند کیا جائے ۔ لفظ ’’فتوی‘‘ کا استعمال مسلمانوں کے آستھا پر حملہ

’’۲۰۰۲کے بعد ملک دشمن طاقتوں نے اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کا ایجنڈا بنایا۔اور اس کو آگے بڑھانے ایم آر ایم (مسلم راشٹریہ منچ) کو تشکیل دیا۔ جس کے بعد مسلمانوں کو مسلک، علاقہ، نظریے کے نام پر تقسیم کرنے کی ہم جہت سازش جاری ہوگئی۔ جس کے خلاف سارے مسلمانوں نے یک زبان آواز اُٹھائی ۔ جب مسلم راشٹریہ منچ سے دال گلتی نظر نہیں آئی تو ملک دشمن طاقتوں نے طارق فتح کو اس پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے ‘‘۔ ان باتوں کا اظہار آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا عثمان بیگ رشادی نے کیا۔
مولانا رشادی نے کہا کہ: ’’الیکشن کے مدعوں سے توجہ ہٹا کر انتخابات میں راست فائدہ اُٹھانے کی کوشش ہے۔ ملک دشمن طاقتیں چاہتی ہے کہ مسلمانوں کو منتشر کر دیا جائے؛ تاکہ اصل مقصد سے امت کا ذہن ہٹ جائے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ : ’’طارق فتح‘‘ جیسے پاکستان اور کیناڈا سے بھگائے ہوے ملحد آدمی کے لیے ’’فتوی‘‘ جیسے محترم اور اسلامی اصطلاحی کلمہ کا استعمال ۳۰؍ کروڑ مسلمانوں کے آستھا پر حملہ ہے۔ اس کے خلاف اور جو چینل اس پروگرام کو چلا رہا ہے اس کے خلاف ’’مان ہانی کا مقدمہ‘‘ درج کیا جائے۔ حکومت تسلیمہ نسرین اور طارق فتح جیسے لوگوں میں ملک میں پناہ دے کر ملک کے ۳۰؍ کروڑ مسلمانوں کی دل آزاری کر کے ان کے مذہب کا مزاق اُڑا رہی ہے‘‘۔
انھوں نے کہا کہ : ’’ یہ جمہوری ملک ہے،یہاں پر اس طرح کی حرکتیں کرنے والوں کے خلاف سخت قانون موجود ہیں۔ حکومت ان قوانین کو نافذ کرے اور ان مذہب کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے‘‘۔
آل انڈیا امامس کونسل کے نیشنل جنرل سکریٹری مفتی احرار سوپولوی نے کہا کہ :’’ہندستان کی تہذیب ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنے اور سارے مذاہب اور ان کے ماننے والوں کا احترام کرنے کا سبق دیتی ہے۔ لیکن کچھ ملک دشمن عناصر اس طرح کے غیر آئینی حرکتیں کر کے پر امن ماحول کو پرآشوب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جن کے خلاف قانونی کاروائی بہت ضروری ہے ‘‘۔
انھوں نے زور دے کر کہا کہ : ’’جو انسان قرآن اور رسول اور اللہ کے بارے میں غلط عقیدہ رکھے اس کے مسلمان ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ مسلمانوں ایسے مرتد اور ملحد افراد کی جھانسوں میں آنے سے بچیں‘‘۔ آل انڈیا امامس کونسل مرکزی اور مہاراشٹر حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ مسلمانوں کی دل آزادی کرنے والے فوراً ملک بدر کرے۔ ایسے چینلوں پر مان ہانی کا مقدمہ درج کرے اور جو ملک دشمن عناصر ان سازشوں کے پیچھے کام کررہے ہیں ان کو سامنے لاکر ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کرے‘‘۔
ايم ايخ احرار سوفولوي
قومی ترجمان: آل انڈیا امامس کونسل

 

Location


DELHI
F-20, III Floor, Shaheen Bagh, Jamia Nagar, Okhla, New Delhi 110025, India

 

Contact

Give us a call at

+91 98809 80310

+91 99607 19466

Email us at allindiaimamscouncil@gmail.com

 

Newsletters

Subscribe and get the latest updates, news, and more...